62

تیرے بن کیا جینا. قسط بارہویں

دستر خوان پر عظمی کھانا لگاتی ہے.بی اے تولیے سے ہاتھ صاف کر کے دستر خوان پر جاتا ہے. بی اے آج پھر آلو گوشت بنا دیا ہے کل ہی تو کھایا تھا ثوبی اس پر بی اے کی زبان رک جاتی ہے.منہ سے لقمہ نکال کر باہر پھینک دیتا ہے جیسا تم کھانا بناتی ہوں.ویسا تو جانور بھی نہ کھائیں یہ سکھا کر بھیجا ہے تمھاری ماں نے تمھیں میرے سر پر تھوپ ڈالی تمھارے جیسی جاہل عورت عظمی بہت ہی دھیمی آواز میں خدا کے لیے بی اے آرام سے اگر آواز کمرے سے باہر نکل جائے تو چار دیواری سے باہر چلی جاتی ہے.بات بے حجاب ہو جائے گی اور اگر بات بے حجاب ہو جائے تو بدنامی ہو تی ہے.بی اے عظمی کی چٹیا سے پکڑ کر بی اے کو سوال کرنے کی عادت ہے جواب سسنے کی فطرت نہیں میرے ساتھ زبان نا چلایا کر ورنہ زبان کاٹ کر ماں کے گھر بھیج دوں گا. عظمی بلک بلک کر رونے لگی تو بی اے یہ مگرمچھ کے آنسو میرے سامنے نا بہایا کرو مجھے ایسی عورتیں پسند نہیں ہیں رونا ہو تو رات کی تاریکی میں رویا کرو تمھارے آنسو پھپھو کے دل کو موم بنا سکتے ہیں بی اے کو نہیں.بی اے دو دن تک گھر رہتا اور تیسرے دن عظمی سے کہتا ہے میرا سوٹ کیس تیار کرو میں نے کام کے سلسلے مری جانا ہے.عظمی بی اے کا سوٹ کیس تیار کرتی ہے.اس مرتبہ عظمی بہت ہریشان ہے کیونکہ اس سے پہلے بی اے کبھی ادھر ادھر نہیں گیا تھا.اس وقت پھپھو کمرے میں آتی ہیں بی اے بیڈ پر لیٹا ہے.عظمی سوٹ کیس تیار کر رہی ہے.پھپھو تم دونوں کہیں جا رہے ہو.بی اے ہم دونوں نہیں صرف میں جا رہا ہوں مری.پھپھو کیوں خیریت ہے.جی جی کام ہے پھپھو. پھپھو آج کل تمھارے کام زیادہ نہیں نکلنے لگے اور وہ بھی گھر سے دور ابھی تمھاری شادی کو صرف پانچ مہینے ہی تو ہوئے ہیں عظمی کے ساتھ وقت گزارا کرو اور اس کو وقت دیا کرو ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارو گے تو ایک دوسرے کو سمجھو گے اگر تمھارے کام ختم نہ ہوے تو پھر تم دونوں کی زندگی کیسے چلے گی.پہلے بھی تم ایک ہفتے کے بعد گھر آئے ہو عظمی تمھاری راہ دیکھتے دیکھتے تھک جاتی ہے میں عورت ہوں دوسری عورت کے جزبات کو سمجھ سکتی ہوں. بی اے ایسے بے خبر بیٹھا ہے جیسے کچھ سن ہی نہ رہا ہوں.پھپھو میری بات مانو تم اور عظمی دونوں مری چلے جاؤ تم اپنا کام کر لینا اور عظمی تمھارے ساتھ گھوم پھر لے گی.عظمی نہیں نہیں پھپھو بی اے نے اپنا کام کرنا ہے میں پھر کبھی چلی جاؤں گی اور اگر میں چلی گئی تو آپ بھی اکیلی ہو جائیں گی.پھپھو نہیں نہیں تم دونوں جاؤ میں بھائی کے گھر چلی جاؤں گی عظمی نہیں بی اے کو کام ہے میں پھر چلی جاؤ گی پھپھو جیسے تمھاری مرضی.پھپھو چلی جاتی ہیں.بی اے غظمی سے اب تم بھی کمرے سے باہر جاؤ مجھے سونا ہے عظمی باہر جاتی ہے. بی اے ثوبیہ کو کال کرتا ہے اور اسے سے ہنس ہنس کر باتیں کرتا ہے.ثوبیہ کہاں تھے آپ دو گھنٹے سے آپ کی آواز نہیں سنی مجھے چین نہیں آ تا ہے آپ کو پتہ ہے آپ کی جان آپ کے بنا ایک پل بھی اداس ہو جاتی ہے. بی اے اداسی ختم اپنا سامان تیار رکھنا ہم دونوں مری جا رہے ہیں.ثوبیہ چونک کر ارے واہ شام کیوں ابھی کیوں نہیں.بی اے میری جان میں ابھی آیا میری جان کا حکم سر آنکھوں پر.بی اے کال بند کرتا اور غظمی عظمی کی آواز لگاتا ہے.عظمی کچھ دیر کے بعد جب سنتی ہے کے بی اے بلا رہا ہے بھاگی بھاگی کمرے میں آتی ہے.جی بی اے.بی اے کہاں مر جاتی ہو تمھیں آواز نہیں آتی کب کا تمھیں بلا رہا ہوں میرے کپڑے تیار کرو مجھے ابھی نکلنا ہو گا .بی اے کچھ دیر بعد گھر سے نکلتا ہے.عظمی بی اے کو رخصت کرتے ہوئے یہ غزل پڑھتی ہے۔
وہ جو شخص میرے پہلو میں رہا کرتا تھا،وہ جو کر پل میرے جینے کی دعا کرتا تھا۔
وہ جو کہتا تھا تمھیں چھوڑا کو مر جاؤں گا میں،وہ جھوٹا اپنے وعدوں میں کہا کرتا تھا۔
وہ جو ضد کرتا تھا ہر لمحہ میرے ساتھ رہنے کی،وہ جدائی کا ہر اک پل بھی گنا کرتا تھا۔
وقت جداء اسے نا خوف نا ندامت تھی کوئی،جیسے نرجس ہر سانس سے وفا کرتا تھا۔

بی اے ثوبیہ کے پاس جاتا ہے ثوبیہ نے بہت ہی خوبصورت ساڑھی زیب تن کر رکھی ہے. بی اے تو جیسے ہی ثوبیہ کو دیکھتا ہے بس اس کی تعریفوں پر شروع ہو جاتا ہے اور ثوبیہ سے کہتا ہے جلدی سے کچھ کھانے کو لا دوں مجھے بہت بھوک لگی ہوئی ہے.ثوبیہ میں نے تو کچھ بھی نہیں بنایا ہم دونوں باہر ہی کھانا کھا لیں گے نا.بی اے مسکراتا ہوا ارے کیوں جو حکم میری جان کا دونوں کھانا کھانے باہر جاتے ہیں آپ گاڑی میں جاؤ میں آتی ہوں۔(جاری ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں