45

نیکیوں،رحمتوں اور مغفرت کی بہار

رَمَضان یا رَمَضان المُبارَک اسلامی مہینوں میں نواں مہینہ ہے، رمضان کا لفظ “ر م ض” سے ہے،جس کے بنیادی لغوی معانی سخت گرمی اور تپش کے ہیں،عالم اسلام پر اس ماہ مقدس کے29یا30 روزے جو کہ پورے مہینے کے ہیں فرض ہیں،ماہ رمضان کے آخری عشرہ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک رات کو ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا ہے اور اس رات کو شب قدر کا نام دیا گیا ہے،ماہ رمضان کی اہم عبادات میں روزہ رکھنا، قرآن مجید کی تلاوت، شب قدر کی راتوں میں شب بیداری کرنا، دعا و استغفار، مؤمنین کو افطاری دینا اور فقیروں اور حاجت مندں کی مدد کرنا شامل ہے،نبی مکرمﷺ پر نازل ہونیوالی الہامی کتاب قرآن حکیم،فرقان مجید بھی ماہ رمضان میں نازل ہوئی،روزہ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک ہے جسے عربی میں صوم کہتے ہیں،قرآن مجید میں فرمان الہی ہے”اے ایمان والو تم پر روزے رکھنے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر روزے رکھنے فرض کیے گئے تھے تا کہ تم متقی و پرہیزگار بنو”۔حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ محمدﷺ نے فرمایا”جو شخص بحالتِ ایمان ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھتا ہے اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں ”قیام رمضان سے متعلق حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضرت محمدمصطفیﷺ نے فرمایا”جس نے رمضان میں بحالتِ ایمان ثواب کی نیت سے قیام کیا تو اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دیے گئے”،رمضان المبارک کی فضیلت کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ حدیث نبویﷺ ہے کہ” اگر لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ رمضانالمبارک کیا ہے؟ تو میری اُمت تمنا کرے کہ سارا سال رمضان ہی رہے”۔ایک روایت میں ہے کہ رمضان المبارک کے تین عشرے ہیں پہلا رحمت کا، دوسرا مغفرت کا اور تیسرا عشرہ دوزخ سے نجات کا ہے،رمضان المبارک کا مقدس مہینہ اپنے اندر لامحدود، ان گنت رحمتیں سموئے ہوئے ہے اور اسی ماہ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی بے پناہ رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی ہیں،رمضان المبارک کا مہینہ باقی مہینوں کا سردار ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے کے لئے رمضان المبارک کا مقدس مہینہ مسلمانوں کو تحفتاً عطا کیا ہے جس میں مسلمان اپنے سابقہ گناہوں کی بخشش اپنے رب سے طلب کرتے ہیں، خالق کائنات نے رمضان المبارک کی غرض و غایت اور مقصد تقویٰ کو قرار دیا ہے ایک مسلمان روزہ کی وجہ سے برائیوں کو ترک کر دیتا ہے اور نیکیوں کی طرف راغب ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کا ایمان بڑھ جاتا ہے،اسی ماہ مبارکہ کو نیکیوں کے موسم بہار اور برائیوں کے موسم خزاں کا مہینہ قرار دیا گیا ہے، جس میں رب کی خوشنودی اور جنت کا حصول حاصل ہوتا ہے،روزہ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ہے،جس کے معنی ہیں رُک جانایعنی اللہ تعالی کے حکم سے دن بھر کھانے پینے ا ور تما م جائز خواہشات سے رُکے رہنا، رمضان کی اہمیت کے بارے میں حضرت محمد ﷺسے ارشاد فرمایا کہ کائنات کے رب کا فرمانا ہے کہ اگر مجھے آپﷺ کی اُمت کو جہنم میں ہی جلانا ہوتا تو رمضان کا مہینہ کبھی نہ آتا،رب کعبہ کا فرمان ہے ”اے ایمان والوں تم پر روز ے فرض کئے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر کئے گئے تا کہ تم متقی اور پر ہیز گار بن جاؤ”۔اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ”اے موسیٰ علیہ السلام میں نے امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو دو نور عطا کیے ہیں، جس نے ان دونوں سے دامن وابستہ کرلیا وہ دونوں جہان کے عذاب سے محفوظ رہے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا کہ وہ کون سے نور ہیں ارشاد باری ہوا کہ ایک نور قرآن اوردوسرا نور رمضان،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،رمضان کے مہینے میں میری امت کو پانچ نعمتیں دی گئیں جو کہ مجھ سے پہلے کسی اور نبی کو نہیں دی گئیں،جن میں سے ایک رمضان کی پہلی رات اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نظر رحمت سے دیکھتے ہیں، اللہ جس کو نظر رحمت سے دیکھ لے اسے عذاب نہیں دیتا،دوسرا اللہ کے نزدیک روزہ دار کے منہ کی خوشبو کستوری کی خوشبو سے زیادہ بہتر ہے،تیسرا فرشتے دن رات روزے داروں کے لیے بخشش کی دعا کرتے ہیں،چوتھا اللہ تعالیٰ جنت کو بندوں کی خاطر بننے سنورنے کا حکم دیتے ہیں اور پانچواں رمضان کی آخری رات اہل ایمان کی بخشش کر دی جاتی ہے۔حدیث شریف میں ہے کہ اے لوگو! اس مہینہ میں چار چیزوں کی کثرت رکھا کرو، کلمہ طیبہ لاالہ الااللہ، استغفار، جنت کی طلب،دوزخ کی آگ سے پناہ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”جنت کے آٹھ دروازوں میں سے ایک دروازے کا نام رَیّان ہے، جس سے قیامت کے دن صرف روزے دار داخل ہوں گے، ان کے علاوہ اس دروازے سے کوئی داخل نہیں ہوگا، کہا جائے گا روزے دار کہاں ہیں؟ تو وہ کھڑے ہو جائیں گے اور جنت میں داخل ہوں گے، جب وہ داخل ہو جائیں گے، تو وہ دروازہ بند کر دیا جائیگا،ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے آپ نے یکے بعد دیگرے تین مرتبہ فرمایا آمین، صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ یہ آمین کیسی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جبرائیل ؑ نے تین باتیں کہیں، میں نے ہر ایک کے جواب میں کہا آمین۔حضرت جبرائیل ؑ نے کہا: برباد ہو وہ، جس کو رمضان کا مہینہ میسر آیا اور اُس نے اس مہینہ میں عبادت کر کے اپنے گناہ نہ بخشوائے، اس کے جواب میں میں نے کہا آمین۔پھر حضرت جبرائیل ؑ نے کہا: برباد ہو وہ شخص جس کو ماں باپ کی خدمت کا موقع ملا اور اس نے ان کی خدمت کر کے اپنے گناہ نہ بخشوائے۔ میں نے کہا آمین۔ پھر حضرت جبرائیل ؑ نے کہا: برباد ہو وہ شخص جس کے سامنے میرا نام لیا گیا اور اس نے مجھ (آنحضرت ﷺ) پر درود نہیں پڑھا۔ میں نے کہا آمین۔ماہ رمضان نیکیوں کے موسم بہار، رحمتوں، برکتوں اور مغفرتوں کا سرچشمہ ہے، یہ انسانی فطرت ہے کہ انسان غلطیاں کرتاہے، گناہوں میں الجھ جاتاہے لیکن اس کے ضمیر پر بوجھ اور خلش قائم رہتی ہے اسی لیے تعلیم و تربیت فرد کی ناگزیر ضرورت ہے اور ہمیشہ رہتی ہے۔ دعا ہے کہ رب تعالیٰ ہمیں اس عظیم مہینہ میں اس کی قدر اور اعمال صالح کے اہتمام کی توفیق عطا فرمائے،آمین ثم آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں